سزائے موت کے مجرموں کے عجیب و غریب آخری الفاظ

سزائے موت کے مجرموں کے عجیب و غریب آخری الفاظ

سزائے موت کے مجرموں کے عجیب و غریب آخری الفاظ

سزائے موت کے مجرم کو موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل آخری لمحات میں مجرم سے اس کے آخری الفاظ پوچھے جاتے ہیں- عام طور پر پر یہ مجرم اپنے آخری الفاظ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور ساتھ ہی ان لوگوں سے بھی معافی طلب کرتا ہے جن کا اس نے نقصان کیا ہوتا ہے- لیکن دنیا میں موت کی سزا پانے والے چند مجرم ایسے بھی تھے جن کے آخری الفاظ انتہائی عجیب و غریب تھے- ان الفاظ کے بارے میں کوئی عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا بالخصوص اس وقت جب اسے معلوم ہو کہ اگلے چند سیکنڈ بعد اس کی موت واقع ہوجائے گی-

گیری گلمور
اس امریکی باشندے نے ڈکیتی کی واردات کے دوران دو افراد کو قتل کردیا تھا لیکن جلد ہی گرفتار ہوگیا- عدالت نے اسے سزائے موت سنائی- اس کیس سے قبل سزائے موت دینے پر پابندی تھی لیکن اس پابندی کے خاتمے کے بعد یہ پہلی سزائے موت تھی- اس عدالتی فیصلے پر ان لوگوں نے احتجاج شروع کردیا جو سزائے موت دینے کے خلاف تھے- اس طرح یہ گیری گلمور مشہور ہوگیا- لیکن حیرت انگیز طور پر گیری نے نہ تو اپنی سزا خلاف کوئی اپیل کی بلکہ اس نے خود پھانسی دینے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا- اس نے کہنا شروع کردیا “ مجھے سزائے موت دی جائے“- جب اسے فائرنگ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار جارہا تھا تو پولیس والوں سے اس کے آخری الفاط تھے “Let’s do it“جو کہ مشہور ہوگئے- کہا جاتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے اسپورٹس برانڈ نائیکی نے انہی الفاط سے اپنا سلوگن Just Do It تیار کیا تھا جو آج تک قائم ہے-

کارل پنزرم
یہ بھی ایک امریکی شہری تھا اور یہ ایک سیریل کلر اور ڈکیت تھا- اسے 22 افراد کے قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا اور عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی- حیران کن طور پر یہ موت کی سزا پانے کے لیے بےچین تھا- یہاں تک کہ جب اسے پھانسی دی جارہی تھی تو اس نے جلاد کو گالی دیتے ہوئے کہا “جلدی کرو اتنی دیر میں تو میں ایک درجن لوگوں کو پھانسی دے دوں“- ان آخری الفاظ سے آپ اس مجرم کی ذہنی حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں-

پیٹر کرٹن
یہ ایک چلتا پھرتا جرمن ڈریکولا تھا- یہ لوگوں کو قتل کر کے ان کا خون پیتا تھا- 1920 میں اس نے 60 افراد کو قتل کردیا تھا- بالآخر یہ گرفتار ہوا اور اسے سزائے موت سنا دی گئی- اس کے آخری الفاظ بھی انتہائی عجیب تھے- اسے سزائے موت سر تن سے جدا کر کے دی گئی تھی- اس کے آخری الفاظ تھے کہ “ مجھے بتاؤ کہ جب میرا سر کاٹ دیا جائے گا تو کیا میں کچھ وقت کے لیے سُن سکوں گا٬ میں اپنے خون نکلنے کی آواز کو سننا چاہتا ہوں اور یہ میری زندگی کا سب سے بہترین لمحہ ہوگا“-

جارج ایپل
اس شخص نے امریکہ میں ایک پولیس افسر کو قتل کردیا تھا- اسے گرفتار کر کے سزائے موت سنا دی گئی تھی- اسے موت الیکٹرک چئیر کے ذریعے دی جانی تھی- جب اس سے الیکٹرک چئیر پر اس کے آخری الفاظ پوچھے گئے تو وہ انتہائی حیران کن تھے- اس نے کہا کہ “ تم لوگ ابھی بیک ہوئے ایپل کو دیکھنے جار ہے ہوں“ ٬ کیونکہ اس کا نام جارج ایپل تھا اور اسے کرنٹ کے ذریعے موت دی جانی تھی تو اس نے خود کو بیک ایپل سے تشبیہ دی-

جیمز فرنچ
اسی طرح کے الفاظ اس مجرم کے تھے- جیمز کو بھی کرنٹ لگا کر سزائے موت دی جانی تھی- اس سے جب اس کے آخری الفاظ پوچھے گئے تو اس نے کہا “ میں سوچ رہا ہوں کہ کل کے اخبارات میں کیا ہیڈ لائن بنے گی“ کہ “ فرنچ فرائز “- یعنی اس کے نام پر لفظ فرنچ آتا تھا اور اسے کرنٹ لگا کر موت دی جانی تھی تو اس نے خود کو فرنچ فرائز سے تشبیہ دی-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Send this to a friend