کرہ ارض سے متعلق پانچ باتیں جو آپ نہیں جانتے

کرہ ارض سے متعلق پانچ باتیں جو آپ نہیں جانتے

تحفظ فطرت کے عالمی فنڈ نے کرہ ارض پر زندگی اور اس کو درپیش خطرات کی صورت حال سے متعلق ہر دو سال بعد تیار کی جانے والی اپنی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں حیوانی حیات سے متعلق کئی ہوش ربا حقائق شامل ہیں۔

ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (WWF) کی یہ اپنی نوعیت کی 12 ویں رپورٹ ہے۔ Living Planet Report 2018 نامی اس دستاویز میں تحفظ ماحول کی اس عالمی تنظیم کی طرف سے یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی تنوع کی صورت حال کیا ہے۔ اس رپورٹ میں شامل کیے گئے حقائق کا تعین اور تصدیق ایسے ڈیٹا کی مدد سے کیے گئے ہیں، جسے لِوِنگ پلینٹ انڈکس کہا جاتا ہے۔ اس انڈکس کے تحت یہ دیکھا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں چار ہزار سے زائد بڑی حیوانی اقسام کی قریب سترہ ہزار مختلف آبادیوں میں تبدیلی کے تازہ ترین رجحانات کیا ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ مختلف انواع کے جانوروں کی آبادی میں کمی بیشی کا عمل کس طرف جا رہا ہے اور یہ کہ زمین پر انسانی آبادی ان حیوانی انواع پر اپنے براہ راست یا بالواسطہ انحصار کے باعث ان تبدیلیوں سے کس طرح اور کتنی شدت سے متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں شامل کردہ پانچ اہم ترین نکات:

ایک: حیوانی انواع کی تعداد میں کمی، انسانوں کی وجہ سے
1970ء سے لے کر اب تک زمین پر فقاریہ (ریڑھ کی ہڈی والے) جانوروں کی تعداد میں 60 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ تازہ پانی میں رہنے والے آبی جانوروں، خاص طور پر میٹھے پانی میں رہنے والی مچھلیوں کی مجموعی آبادی میں بے تحاشا کمی ہوئی ہے۔

انسانوں کو فطرت کو بے دریغ استعمال کرنے کے بجائے فطرت کے ساتھ مل کر رہنا سیکھنا ہوگا-

اس طرح کی آبی حیات کی کُل آبادی میں قریب پانچ عشرے پہلے کے مقابلے میں آج مختلف ڈیموں، ضرورت سے زیادہ ماہی گیری، بیماریوں اور کئی دیگر عوامل کے سبب 83 فیصد تک کی کمی ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی امریکی اور وسطی امریکی خطوں میں جنگلات کے تیز رفتار خاتمے کے بھی حیوانی حیات کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

دو: قدرتی حیاتیاتی ماحول سکڑتے ہوئے
زمین پر انسانی آبادی جس طرح زمینی وسائل کو استعمال کر رہی ہے، اس کی وجہ سے کرہ ارض پر شدید دباؤ ہے، خاص طور پر زمین کی سطح بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انسانی آبادی اپنے زندہ رہنے کے لیے دیہات، قصبوں اور شہروں کے لیے جتنا رقبہ استعمال کرتی ہے، وہ تو بہت کم ہے لیکن جانوروں کی چراگاہوں، زرعی مقاصد اور ایندھن کے حصول کے لیے زمین کا جتنا رقبہ استعمال کیا جاتا ہے، وہ مقابلتاﹰ بہت زیادہ ہے۔

پریشانی کی بات یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع سے متعلق بین الحکومتی پلیٹ فارم کے مطابق اس وقت زمین پر خشک رقبے کا محض ایک چوتھائی حصہ ایسا ہے، جو اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ لیکن مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ 2050ء تک زمین کا اپنی اصلی حالت میں موجود یہی خشک رقبہ مزید کم ہو کر صرف 10 فیصد رہ جائے گا۔

تین: مٹی میں کچھ ہے
بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ کرہ ارض پر حیاتیاتی اقسام کا ایک چوتھائی حصہ زمین پر ہمارے پاؤں کے نیچے مٹی میں رہتا ہے۔ یہ زیر زمین جاندار ہوا سے کاربن نکال دیتے ہیں اور انہی کی وجہ سے پودے اپنی جڑوں کے ذریعے زمین سے معدنیات کو اپنے اندر جذب کر لینے کے قابل ہوتے ہیں۔

انتہائی اہم نوعیت کے ان زیر زمین جانداروں کو آلودگی، آتشزدگی، حد سے زیادہ کیمیائی کھادوں کے استعمال، صحراؤں کے پھیلتے جانے، جنگلات کے خاتمے اور زمین کے ناقابل کاشت ہو جانے سے شدید نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔

چار: انتہائی قیمتی فطری نظام
فطرت، جو زمین کا اصلی اور قدرتی نظام ہے، انسانوں کو ہر سال جو قیمتی وسائل اور خدمات مہیا کرتی ہے، ان کی مجموعی مالیت 125 کھرب ڈالر یا 110 کھرب یورو بنتی ہے۔

ان میں طبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے پودوں کی فراہمی اور نباتات کی پولینیشن میں حیوانات اور اڑنے والے حشرات کے کردار سے لے کر مونگے کی ان چٹانوں کی افادیت تک بہت کچھ شامل ہے، جو کئی طوفانوں کو روکنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

شہد کی بیس ہزار سے زائد اقسام کی مکھیاں، تتلیاں اور اڑنے والے چھوٹے چھوٹے جاندار، جو پودوں کی افزائش نسل میں ’پولینیٹرز‘ کے طور پر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، صرف ان کی خدمات کی مالیت کا تخمینہ ہی 235 ارب ڈالر سے لے کر 577 ارب ڈالر سالانہ تک لگایا جاتا ہے۔

انسانوں کو زمین سے ہر سال جتنی بھی فصلیں حاصل ہوتی ہیں، ان میں سے ایک تہائی سے زائد زرعی پیداوار کے ذمے دار یہی مکھیاں، تتلیاں اور دیگر اڑنے والے چھوٹے چھوٹے جاندار ہوتے ہیں، جن کو عام انسان اکثر خاطر میں ہی نہیں لاتے۔

پانچ: چوبیس ماہ کی مہلت
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر نے، جس کی نظریں ابھی سے 2020ء پر لگی ہیں، زمین پر انسانی آبادی کو تنبیہی طور پر اس مقصد کے لیے صرف دو سال یا 24 ماہ کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنا طرز زندگی بہتر بنائے اور اس طرز عمل پر دوبارہ غور کرے، جس کے تحت زمین کے وسائل کو بےدریغ استعمال اور آلودہ کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Send this to a friend