پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک قدم آگے نکل آ گیا اربوں روپے کی لاگت سے ایک ایسی چیز بنا دی گئی کہ نوجوان خوشی سے جھوم اٹھیں گے

پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک قدم آگے نکل آ گیا اربوں روپے کی لاگت سے ایک ایسی چیز بنا دی گئی کہ نوجوان خوشی سے جھوم اٹھیں گے

پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک قدم آگے نکل آ گیا اربوں روپے کی لاگت سے ایک ایسی چیز بنا دی گئی کہ نوجوان خوشی سے جھوم اٹھیں گے

فیصل آباد (آئی این پی) چیئرمین پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ ڈاکٹر شہزاد عالم نے ملک کا پہلا سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن پارک رواں سال 5 دسمبر سے پی سی ایس آئی آر لاہور میں کام شروع کر دے گا گزشتہ 70سالوں میں 3 بار ایسا نظام لانے کی کوشش کی گئی اس سلسلہ میں 1 ارب روپے کی لاگت سے لاہور نالج پارک پر کام شروع کیا گیا مگر اس کا نتیجہ صفر رہا اسی طرح ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی صنعتوں کو ایک چھت کے نیچے تمام ضروری سہولتیں مہیا کرنے کیلئے ایس ٹی آئی پارک کا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پیسی ایس آئی آر اس کیلئے حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لے گا فیصل آباد میں ٹیکسٹائل سے متعلقہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور وہ گز شتہ روز فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں اس پارک کے بارے میں آگاہی سیشن سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی کیلئے اس کی صنعتوں کے پیچھے ایک مکمل جامع اور مربوط نظام ہوناہے جسے ہم صنعتوں کا ایکو سسٹم کہتے ہیں یہ سسٹم صنعتوں کو جدید بنانے ‘ صنعتی پیداوار میں بتدریج ویلیو ایڈیشن تنوع لانے کیلئے مدد کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو 56 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا-

انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے چینی ماڈل کو سامنے رکھا گیا ہے جس کے چار حصے تھے چین نے اس کے پہلے حصے میں نیشنل ہائی ٹیک زونز بنائے اس کے بعد درآمدات کے متبادل مقامی طور پر تیار کئے گئے جبکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی لانے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گئے انہوں نے بتایا کہ ان اقدامات کی وجہ سے چینی معیشت مکمل طور پر بدل گئی آج چین دس سال پہلے کے چین سے بہت مختلف ہے انہوں نے بتایا کہ اب چین نے 2050 ویژ ن دی ہے جس کے تحت چین کو گلوبل انوویشن لیڈر بنایا جائے گا پی سی ایس آئی آر کے مجوزہ ایس ٹی آئی پارک سے پاکستان کی صنعتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی یہاں صنعتوں کو ویلیو ایڈیشن کیلئے ماہرین کی سہولتوں کے علاوہ سنٹر فار ٹیکنالوجی ٹرانسفر، انڈسٹری سپورٹ سنٹر ، جدید ٹیکنالوجی ، ٹیکنالوجی انکوبیشن بزنس بینک اور ایف بی آر ( اینٹی لیکچوئیل) سمیت پی سی ایس آر کی تمام سہولتیں بھی میسر ہوں گی اس سنٹر میں ابتدائی طور پر 15 سے بیس صنعتوں کو سہولتیں دی جائیں گی جبکہ اگلے مرحلے میں مزید صنعتوں کو بھی یہ سہولتیں مل سکیں گی-

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پی سی ایس آئی آر اب پرانی طرز کا ادارہ نہیں رہا اس وقت یہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایکریڈیٹیشن لیب ہے جہاں سے 472 قسم کے جدید ٹیسٹ کئے جا سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ایک پودا پایا جاتا ہے جس کے تیل سے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ جرمنی روانہ اس کے 5 کنٹینر منگوا رہا ہے جبکہ پی سی ایس آئی آر نے اس سے خود تیل نکالنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اسی طرح معدنیات کو خام مال کے طور پر برآمد کرنے کی بجائے ہمیں ان سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر کے برآمد کر نی چاہیں جبکہ اس سلسلہ میں اچھی منرل پالیسی ضروری ہے۔

چیئرمین پی سی ایس آئی آر نے بتایا کہ مجوزہ سائنس،ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن پارک کیلئے فیصل آباد کے انجینئر احمد حسن نے جگہ مخصوص کرالی ہے جبکہ مزید لوگوں کو بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیاء علمدار حسین نے کہاکہ پاکستان ریسرچ میں بہت پیچھے ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر انڈین چاول کا بیج 55 من فی ایکڑ پیداوار دیتا ہے جبکہ ہمارا باسمتی صرف 45 من فی ایکڑ پیداوار دے رہا ہے اسی طرح مکئی کے امریکی بیج سے 105 من جبکہ پاکستانی بیج سے صرف 55 من پیداوار ملتی ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے سائنسدان صرف لیبارٹریوں کی حدتک کام کر سکتے ہیں صدر سید ضیاء علمدار حسین کے ہمراہ پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد عالم کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Send this to a friend